امریکی پٹھے کاروں کے پیچھے موجود خواتین کی داستانیں عموماً نظر انداز کی گئی ہیں۔ اس مضمون میں، ہم ان خواتین کی زندگیوں اور کامیابیوں کو دریافت کریں گے جنہوں نے کاروں کی دنیا میں انمٹ نشان چھوڑا ہے۔
پرانی کاریں، ان کے جسم، اور ان کی آوازیں ہماری یادوں میں بس گئی ہیں۔ لیکن ان میں ایک اور دلچسپ عنصر شامل ہے: وہ خواتین جو ان کی تخلیق اور ترقی میں شامل تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 1960 کی دہائی کے وسط تک، کار انڈسٹری میں کچھ 10% خواتین شامل تھیں، لیکن ان کی شراکت کو ٹھیک طرح سے تسلیم نہیں کیا گیا۔
اٹلی، جہاں دنیا کی کچھ پہلی سپورٹس کاریں بنائی گئیں، اس کا ریکارڈ یہ ہے کہ وہاں خواتین کوئی نئی بات نہیں تھیں۔ دنیا بھر میں کار انڈسٹری میں خواتین کی شمولیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا، لیکن پھر بھی ان کی کہانیاں بیک گراؤنڈ میں رہ گئیں۔
ماریون کینیڈی، جو خودکار گاڑیوں کی ابتدائی انجنیرز میں سے ایک تھیں، نے امریکی کار انڈسٹری میں کئی انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ ان کی کہانیاں نہ صرف ان کی محنت کا نتیجہ ہیں بلکہ وہ ان چند خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے اپنی محنت سے دنیا کو دکھایا کہ خواتین بھی میکانکس اور انجینئرنگ میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔
ماریون کا بچپن ایک ذاتی باغیچہ میں گزرا، جہاں ان کے والد نے انہیں کم عمری میں گاڑیوں کی دیکھ بھال کرنے کی ترغیب دی۔ یہ شوق بعد میں ان کے شوق کو پروان چڑھانے کا سبب بنا۔
کاروں کا ڈیزائن صرف مردوں کا کام نہیں ہے۔ ایک اور ذکر کردہ نام، سوزی ریکارڈ کا ہے، جو 1970 کی دہائی میں ٹیسلا جیسی کاروں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والی انجینئر تھیں۔
جس طرح کار ریسنگ, جیسے نیسکار اور انڈی کار، دنیا بھر میں مشہور ہیں، ویسے ہی یہ بھی خواتین کے حق میں ایک مضبوط اظہار رہا ہے۔ اسپورٹس کی دنیا میں خواتین کی کامیابیاں خاص طور پر ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ سوزی نے کئی بار مردوں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی، جو کہ ایک بڑی کامیابی تھی۔
جب ہم امریکی پٹھے کاروں کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ایک اور نام ذہن میں آتا ہے: ڈانا ایلیس، جسے ‘کوئین آف آف روڈ’ کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ ان کی شراکت نہ صرف ڈرائیونگ میں بلکہ سڑکوں کی حفاظت میں بھی اہم رہی ہے۔
یہ کہنا کہ خواتین نے کاروں کی دنیا میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا، بھی حقیقت سے دور ہے۔ تخلیقی سوچ اور ان کی مہارت نے امریکی اداروں کو نیا موڑ دیا ہے۔
آج کے دور میں، بڑی بڑی کار کمپنیوں میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب ان خواتین کی محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے پہلے قدم اٹھائے۔ ہماری ثقافت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کار انڈسٹری میں خواتین کی شمولیت ایک رکاوٹ نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔
خواتین کی کامیابیاں ہمیں محنت کی قدر سے آگاہ کرتی ہیں۔ یہ کہنا کہ خواتین کی کامیابیاں محض قسمت کا نتیجہ ہیں، ہر گز درست نہیں۔
جس طرح ہم ڈرائیونگ کے بارے میں سوچتے ہیں، اسی طرح ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ڈرائیورز کی کامیابیاں کیسے متاثر کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں دنیا بھر کی نوجوان خواتین کو حوصلہ دیتی ہیں کہ وہ پھر بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہیں، چاہے ان کا پس منظر کچھ بھی ہو۔
تو اگلی بار جب آپ اپنی پسندیدہ پٹھے کار کی نشست پر بیٹھیں، تو یاد رکھیں کہ اس کے پیچھے صرف مرد نہیں بلکہ مضبوط، باصلاحیت خواتین بھی ہیں جنہوں نے ان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کا ایک چھوٹا سا فیصلہ، جیسے کسی چھوٹی سی اکنامکس کو سمجھنا، کسی نہ کسی حوالے سے دنیا کو تبدیل کر سکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خواتین کے بغیر، امریکی پٹھے کاروں کی تاریخ ادھوری ہے۔ ان کی محنت، صلاحیت اور لگن کو تسلیم کرنا اور ان کی کہانیوں کو سامنے لانا آج کی نسل کا کام ہے۔